ابنا: جاپانی وزیر اعظم نائو تو کان نے کہا کہ فوکوشیما کے لوگوں کو پرامن مقامات پر چلے جانا چاہئے انہوں نے کہا کہ فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر کے حالات کیا ہوتے ہيں اس بارے ميں کچھ بھی نہيں کہا جاسکتا ۔اس سے پہلے جاپانی وزیر اعظم نے فوکو شیما ایٹمی بجلی گھر سے بیس سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر رہنےوالوں سے کہا تھا کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں ۔ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوکوشیما میں ڈاي ایچی ایٹمی بجلی گھر میں بھی دراڑیں پڑ گئی ہيں۔ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فوکوشیما کی ایٹمی تنصیبات سے نکلنے والےتابکاری مواد پر کب قابو پایاجاسکےگا ۔ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی سیکورٹی کے شعبے کے سربراہ ڈينس فلوری نے کہا کہ فوکوشیما ایٹمی تنصیبات سے رسنے والے تابکاری مواد پرقابو پانے کے لئے انجام دئے جانے والے ہر قسم کے اقدام سے پہلے کچھ اور بھی ضروری اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان ایٹمی تنصیبات کو ٹھنڈا کیا جائے اور تابکاری کے رساؤ پر قابو پانے کے لئے انجینئروں کو اندر جانے سے پہلے ان کی جان کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ جاپان میں سونامی اور شدید زلزلے کے باعث جہاں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے وہيں فوکوشیما ایٹمی تنصیبات کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110